PDA

View Full Version : Meer Taqi Meer


  1. الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کی
  2. جنسِ گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں
  3. درد ہی خود ہے، خود دوا ہے عشق
  4. دیکھ خورشید تجھ کو اے محبوب!
  5. آیا کمال نقص مرے دل کی تاب میں
  6. کیا کہوں کیا رکھتے تھے تجھ سے ترے بیمار چشم
  7. میر دریا ہے سنو شعر زبانی اسکی
  8. جس سر کو آج غرور ہے یاں تاجوری کا
  9. ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر
  10. ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
  11. شکوہ کروں میں کب تک اُس اپنے مہرباں کا
  12. آگے جمالِ یار کے معذور ہوگیا
  13. غمزے نے اُس کے چوری میں دل کی ہنر کیا
  14. دکھ اب فراق کا ہم سے سہا نہیں*جاتا
  15. غصے سے اُٹھ چلے ہو جو دامن کو جھاڑ کر
  16. آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
  17. کیا کیا لکھا ہے میں نے وہ میر کیا کہے گا
  18. بے کلی، بے خودی کچھ آج نہیں
  19. کرتے ہیں گفتگو سحر اُٹھ کر صبا سے ہم
  20. اگر راہ میں اُس کی رکھا ہے گام
  21. مير تقی میر
  22. سوزشِ دل سے مفت گلتے ہیں
  23. مرتے ہیں تیری نرگسِ بیمار دیکھ کر
  24. آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
  25. ہونے لگا گزار غمِ یار بے طرح
  26. *~*فقیرانہ آئے صدا کرچلے*~*