- الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کی
- جنسِ گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں
- درد ہی خود ہے، خود دوا ہے عشق
- دیکھ خورشید تجھ کو اے محبوب!
- آیا کمال نقص مرے دل کی تاب میں
- کیا کہوں کیا رکھتے تھے تجھ سے ترے بیمار چشم
- میر دریا ہے سنو شعر زبانی اسکی
- جس سر کو آج غرور ہے یاں تاجوری کا
- ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر
- ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
- شکوہ کروں میں کب تک اُس اپنے مہرباں کا
- آگے جمالِ یار کے معذور ہوگیا
- غمزے نے اُس کے چوری میں دل کی ہنر کیا
- دکھ اب فراق کا ہم سے سہا نہیں*جاتا
- غصے سے اُٹھ چلے ہو جو دامن کو جھاڑ کر
- آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
- کیا کیا لکھا ہے میں نے وہ میر کیا کہے گا
- بے کلی، بے خودی کچھ آج نہیں
- کرتے ہیں گفتگو سحر اُٹھ کر صبا سے ہم
- اگر راہ میں اُس کی رکھا ہے گام
- مير تقی میر
- سوزشِ دل سے مفت گلتے ہیں
- مرتے ہیں تیری نرگسِ بیمار دیکھ کر
- آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
- ہونے لگا گزار غمِ یار بے طرح
- *~*فقیرانہ آئے صدا کرچلے*~*