- ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو
- نہ سیئو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو
- اُسی وادی میں تم اب جادہ پیما ہو جہاں میں تھ
- شفق کے سرخ دریا میں نگاہیں تیر جاتی ہیں
- ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
- یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
- دولت اور محبت
- گھنیری شاخوں کی تیرگی میں کلی کوئی مسکرا ر
- وہ عہد تم نے توڑ دیا جس پہ بیشمار
- اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا
- نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا
- میرا معیارِ محبت
- صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے
- احسان دانش کا مختصر تعارف