- وہ بھی کیا دن تھے کہ پل میں کر دیا کرتے تھے ھم
- راہ وفا میں اذیت شناسائیاں نہ گئیں
- انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ھے؟
- روٹھا تو شھر خواب کو غارت بھی کر گیا
- کھاں یہ بس میں کہ ھم خود کو حوصلہ دیتے
- ھمارے بعد چلی رسم دوستی کہ نھیں؟
- تجھے اداس بھی کرنا تھا خود بھی رونا تھا
- لٹتے کھاں کہ صاحب جاگیر ھم نہ تھے
- بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
- وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی
- یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو
- شامل میرا دشمن
- زمانے بھر نگاہوں میں
- جب سے اس نے شہر کو چھوڑا
- وہ اجنبی اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں دو
- فنکار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
- خود کو اس دل میں بسانے کی اجازت دے دو
- ٹھہر جاؤ کہ حیرانی تو جائے