- زمانہ آيا ہے بے حجابي کا ، عام ديدار يار ہو گ&
- ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہو
- Deewan e Ghalib
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیو
- کون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک
- کب سے ہُوں۔ کیا بتاؤں جہانِ خراب میں
- غالب کے ضرب الامثال اشعار
- دلَ ناداں تُجھے ہوا کیا ہے ۔۔۔۔ مرزا غالب
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
- زندگی میں بھی رہا ذوقِ فنا کا مارا
- کمالِ حسن اگر موقوفِ اندازِ تغافل ہو
- مرزا اسد اللہ خان غالب
- آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
- دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
- پیدا کریں دماغ تماشائے سَرو و گل
- کہتا تھا کل وہ محرمِ راز اپنے سے کہ آہ!
- خیال سادگی ہائے تصور‘ نقشِ حیرت ہے
- میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالب
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہِ شعلہ ریز!
- اس رشتے میں لاکھ تار ہوں‘ بلکہ سوا
- بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جم جاہ نے دال
- اے شہنشاہِ فلک منظر بے مثل و نظر
- کہہ چکا میں تو سب کچھ‘ اب تو کہہ
- دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے
- وہ آ کے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دے
- mirza gaib k zarbul amsaal ashaar