- محبت ڈائری ہرگز نہیں ہے
- محبت کا اک پہر
- چھاؤں
- کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
- بچھائے جال کہیں جمع آب و دانہ کیا
- تم نے سچ بولنے کی جرات کی
- اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہی
- پیار کرنے کے لیے گیت سنانے کے لیے
- نہ اس طرح کوئی آیا نہ کوئی آتا ہے
- مجھے خبر تھی میرے بعد وہ بکھر جاتا
- سندیسہ
- ستم کی رات کو جب دن بنانا پڑتا ہے
- خود کو کردار سے اوجھل نہیں ہونے دیتا
- ذرا سی دیر کو منظر سُہانے لگتے ہیں
- یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے
- بستیاں سنہری تھیں لوگ بھی سنہرے تھے
- کچھ پاس نہیں، پھر بھی خزانہ تجھے دیتے
- کیا بتائیں فصلِ بے خوابی یہاں بوتا ہے کون
- یہ وصال ہے کہ فراق ہے، دلِ مبتلا کو پتا رہے
- مَیں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی ا
- جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا
- قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
- میرے وجود میں سچائی میری ماں کی ہے