- ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی
- مثال اس کی کہاں ہے زمانے میں
- سُوکھی ٹہنی ، تنہا چڑیا ، پھیکا چاند
- پھرتے ہیں کب سے دربدر،اب اِس نگر اب اُس نگر
- اب اگر آو تو جانے کے لئے مت آنا
- جاتے جاتے وہ مجھے اچھی نشانی دے گیا
- اُلجھن
- ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
- میری زندگی میری منزلیں، مجھے قُرب میں نہی¬
- وہی حالات ابتداء سے رہے
- ہم سے دلچسپ کبھی سچّے نہیں ہوتے ہیں
- معمّہ
- میں اکثر سوچتا ہوں
- غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے
- خواب کے گاؤں میں پَلے ہیں ہم
- وہ ڈَھل رہا ہے تو یہ بھی رَنگت بدل رہی ہے
- ایک مہرے کا سفر
- وہ کمرہ یاد آتا ہے
- گُھل رہا ہے سارا منظر شام دُھندلی ہوگئی
- بے گھر
- میرا آنگن، میرا پیڑ
- جنگل میں گھومتا ہے پہروں فکرِ شکار میں درن
- ہم نہ سمجھے تھے بات اتنی سی
- کتھئی آنکھوں والی اک لڑکی
- دل کے پھول بھی کھلتے ہیں ، بکھر جاتے ہیں
- تو چاند نگر کی شہزادی، میں اس دھرتی کا بنجا
- تمنا پھر مچل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤ
- ہر خوشی میں کوئی کمی سی ہے